تعددِ ازدواج: شرعی حق یا شرعی ذمہ داری؟ قرآن، سنت اور جدید نفسیات کی روشنی میں ایک متوازن تجزیہ
اسلامی معاشرے میں ایک جملہ بہت عام ہو چکا ہے: “یہ میرا شرعی حق ہے، میں دوسری یا تیسری شادی کر سکتا ہوں۔” لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے تعددِ ازدواج کو حق نہیں بلکہ ایک مشروط رخصت قرار دیا ہے۔ یہ رخصت صرف اُس وقت ہے جب مرد عدل، مالی ذمہ داری، جذباتی تحفظ اور اخلاقی امانت پوری کر سکے۔ اسلام میں تعدد ازدواج (Polygamy in Islam) کو طاقت یا خواہش کا کھیل نہیں بنایا گیا۔ قرآن نے اجازت کے ساتھ فوراً شرط بھی لگا دی ہے۔ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً اگر عدل نہ کر سکو تو ایک ہی کافی ہے۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ تعددِ ازدواج نہ اصل ہے، نہ فضیلت، نہ مرد کی خواہش۔ یہ صرف ایک محدود اور مشروط اجازت ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے: وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا تم عورتوں کے درمیان برابر عدل کر ہی نہیں سکتے۔ یعنی جذباتی عدل، محبت کی مساوات اور دل کے میلان پر کنٹرول ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مرد کو واپس ایک زوجگی کے نظام کی طرف لے جاتا ہے۔ کنواری سے دوسری شادی — خواہش یا شریعت؟ بعض مرد کہتے ہیں: “مجھے تو کنواری ہی چاہیے۔” “Second marriage virgi...